Rauf Klasra. وزارت خزانہ کے اعترافات اور مزید سوالات۔۔۔! By Rauf Klasra . نیوٹن کا تیسرا قانون اور انسانی لہو کا چسکا! Rauf Klasra. میں آخری عباسی خلیفہ کے دور میں زندہ ہوں! Rauf Klasra (Urdu: رؤف کلاسرا ‎) is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. Fatima ستمبر 24, 2014 2. وائٹ ہائوس اور ڈائوننگ سٹریٹ سے مرید کے تک! Must Read Urdu column Thank you My Lord! قرۃ العین حیدر کی آنکھ سے کراچی کو دیکھو (آخری قسط), قرۃ العین حیدر کی آنکھ سے کراچی کو دیکھو۔۔۔۔ (2), قرۃ العین حیدر کی آنکھ سے کراچی کو دیکھو, ڈیرہ غازی خان کے چاچا نذر کی دلگداز کہانی۔۔۔۔, خدا سائیں ڈیندا ، گائوں دا خان نئیں ڈیندا, چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت میں......(آخری قسط), چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی عدالت میں۔۔۔۔(1), نواز شریف کا قومی اسمبلی میں ایک بھولا بسرا خطاب. Rauf Klasra September 16, 2020 Dunya 1404 2, مجھے حیرانی ہوئی کہ میں نے اب تک وہ ٹی وی شو کیوں نہیں دیکھا تھا۔, اپنے اپنے ٹی وی شوز کے بعد ارشد شریف، راجہ عدیل، علی عثمان اور میں نے کہیں کھانے کا پروگرام بنایا۔ اکثر خاور گھمن، ضمیر حیدر اور شاہد بھائی ساتھ ہوتے ہیں، لیکن کل رات لیٹ ہوگئے، لہٰذا ہم صرف چار تھے۔ ایک دوسرے سے پوچھا: پروگرام میں کیا موضوع رکھا یا میں اور عامر متین نے کون سی توپ چلائی؟ اس ایک دو گھنٹے کی ملاقات میں جہاں دنیا جہان کی باتیں ہوتی ہیں، وہیں ذاتی، پروفیشنل اور ملکی حالات بھی زیربحث آتے ہیں۔, لاہور میں ہونے والے ریپ کے وقوعے نے سب کو افسردہ کر دیا ہے۔ عدیل راجہ بتانے لگا: پروگرام میں مظفرگڑھ سے مختاراں مائی کو بھی شو میں لیا ہوا تھا۔ راجہ عدیل بولا: مختاراں مائی نے کہا: پرویز مشرف نے اس کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی خواتین جان بوجھ کر ریپ کراتی ہیں تاکہ ان کو کینیڈا کی نیشنلٹی مل سکے۔ وہ بولی: آج وہی جنرل مشرف دبئی میں مفرور ہے جبکہ وہ پاکستان میں اپنے گھر رہتی ہے۔, میں کانپ کر رہ گیا کہ بعض دفعہ ہمارے کہے گئے الفاظ کیسے پلٹ کر ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ ارشد شریف اور راجہ عدیل نے مجھ سے پوچھا: تم نے ایک ٹی وی شو "دہلی کرائمز" دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ابھی تک نہیں دیکھا۔ وہ دونوں بولے: اس شو کو ضرور دیکھو، تم بہت کچھ سیکھو گے۔ میں گھر پہنچا تو چھوٹا بیٹا جاگ رہا تھا۔ اسے اداکار اور فلم میکر بننے کا شوق ہے۔ اس کا خیال ہے کہ میں اس کی آسکر ایوارڈ جیسی اداکاری کی راہ میں رکاوٹ ہوں ورنہ وہ اب تک سٹار بن چکا ہوتا۔ میں نے کہا: پہلے اپنی تعلیم مکمل کرو پھر جو دل کرے کرتے رہنا۔ خیر میں نے اسے کہا: یار تمہارے ارشد انکل اور عدیل بھائی نے اس شو کا کہا ہے، آئو اکٹھے دیکھتے ہیں۔ وہ حیران ہوا اور بولا: آپ نے ابھی تک نہیں دیکھا، میں نے تو پچھلے سال ہی اس کی سات قسطیں دیکھ لی تھیں۔ میں نے کہا: یار بندہ پوچھ ہی لیتا ہے۔ وہ بولا: آپ نے ایک دفعہ شروع کیا تو آپ اسے چھوڑ نہیں سکیں گے، بہتر ہوگا آپ ویک اینڈ پر دیکھیں۔ خیر ایک باپ بھلا کب بیٹے کی سنتا ہے، میں اسی وقت دیکھنے بیٹھ گیا اور وہی ہوا، جونہی سیریز شروع ہوئی، سکرین سے نظریں ہٹانا مشکل ہوگیا۔, یہ دراصل چند سال قبل دہلی میں ایک چلتی بس میں چھ لوگوں کے ایک لڑکی کو ریپ کرنے کے واقعہ پر بنائی گئی ایک منی سیریز ہے، جس کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس نے سرکاری فائل سے یہ سکرپٹ لکھا ہے، لہٰذا یہ سچے واقعات پر مبنی ہے۔ فلم دیکھنے کے بعد رات گئے ایک بس میں ایک لڑکی اور اس کا دوست سوار ہوتے ہیں اور راستے میں وہ بس ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں تشدد کے بعد بدترین ریپ کا شکار ہوتی ہے۔ اب پولیس نے ایک ایسے جرم کا سراغ لگانا تھا جس کا ان کے پاس کوئی سراغ نہیں اور اتنے بڑے نیو دہلی میں کیسے چھ لوگ تلاش کرنے ہیں، یہ سب سیزن اسی پر بنا ہوا ہے۔, اس پورے شو میں ایک بات میرے دل کو لگی۔ چھ ملزمان میں سے ایک ملزم پکڑا جاتا ہے تو پولیس افسرخاتون اس سے تفتیش کے دوران پوچھتی ہے: تم نے اس لڑکی کا ریپ اور بدترین تشدد کیوں کیا؟ جیسا تم نے اس کا حشر کیا ہے اس سے بہتر تھا تم اسے قتل ہی کردیتے۔ اس پر وہ ملزم جواب دیتا ہے: اس لڑکی کا ریپ دراصل اس کے بوائے فرینڈ نے کروایا تھا، جو اس کے ساتھ تھا۔ وہی اس کا ذمہ دارہے۔ وہ خاتون افسر حیران ہو کر پوچھتی ہے وہ کیسے؟ وہ جواب دیتا ہے: دراصل وہ دونوں بس میں پیچھے بیٹھے ایک دوسرے سے گپیں لگا رہے تھے بلکہ وہ لڑکا اس لڑکی کو ٹچ بھی کررہا تھا۔ ہمیں غصہ آیا کہ دیکھو ایسے ماڈرن بوائے، گرل فرینڈز دیش کو دنیا بھر میں بدنام کررہے ہیں۔ انہی کی وجہ سے فحاشی بڑھ رہی ہے۔ پھر ہم نے سوچا:یہ لڑکی تو لگتی ہی ایسی ہے تو پھر کیوں نہ کچھ اپنا حصہ وصول کر لیں۔ اس لیے ہم چھ لوگوں نے باری باری ریپ کیا۔ بولا: مجھے تو اتنا غصہ تھا کہ میں نے نہ صرف اس کے پورے بدن پر کاٹا بلکہ اس پر ایسا تشدد کیا جس کے لکھنے کے لیے الفاظ نہیں۔ یہ چھ کے چھ مجرم ہندوستان کی ریاست راجستھان کے ایک گائوں سے دہلی میں گزر بسر کے لیے مزدوری کرنے آئے تھے۔, یہ کہانی ہمارے معاشرے پر بھی پوری اترتی ہے۔ مجھے یہ سین دیکھتے ہوئے ملتان کے مرحوم دوست راشد رحمن یاد آگئے۔ وہ ملتان میں ہیومن رائٹس سیل کے انچارج تھے اور بعد میں مظلوم لوگوں کی وکالت کے جرم میں قتل کر دیے گئے تھے۔ وہ سب مظلوموں کے کیسز مفت لڑتے تھے۔ ایک دن مجھے کہنے لگے: رئوف تمہیں پتہ ہے ایک لڑکی اگر حدود کے مقدمے میں کسی لڑکے کے ساتھ پکڑی جائے تو اسے پولیس سٹیشن سے لے کر عدالت اور جیل تک کیا کچھ بھگتنا پڑتا ہے؟ ایک سپاہی سے لے کر عدالتی اہلکار تک سب اس لڑکی سے نفرت اس لیے نہیں کرتے کہ اس نے غلط کام کیا تھا۔ وہ سب اس لیے نفرت کررہے ہوتے ہیں کہ وہ کسی اور لڑکے کے ساتھ پکڑی گئی۔ یہی بات ایک بھارتی ملزم کہہ رہا تھا کہ اس لڑکی کو بس میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گپیں لگاتے اور ٹچ کرتے دیکھ کر انہیں یہی محسوس ہوا کہ اس میں ایسا کیا تھا جو ان چھ لوگوں میں نہیں اور وہ بھارت کو بدنام کررہی تھی۔, یہ وہ سوچ ہے جس نے پاکستان ہو یا بھارت، معاشرے کو تباہ کیا ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہ بحث آج کل چل رہی ہے کہ ریپ ہونے کی وجہ خود عورتیں ہیں۔ ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ بغیر محرم باہر نکلنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اب بتائیں بھارت میں چلتی بس میں جس لڑکی کا ریپ ہوا اس کے ساتھ تو اس کا دوست بھی تھا۔ ایک طبقے میں یہی سوچ پیدا ہوچکی ہے کہ عورت اپنے ریپ کی خود ذمہ دار ہے۔ ایک اور طبقے میں یہ سوچ بھی پروان چڑھ رہی ہے کہ جو چیز ان کے پاس نہیں وہ دوسرے کے پاس بھی نہیں ہونی چاہیے۔ طبقاتی نفرت اور احساس ِمحرومی کے پیچھے یہی گھنائونا احساس موجود ہے۔ کچھ لوگ جاتے جاتے کسی کی نئی گاڑی پر لکیریں گھسیٹ دیں گے، رات کو کسی کی کھڑی کار کا شیشہ توڑ دیں گے، ایسے احساسِ کمتری کے مارے لوگ یونیورسٹی میں جن کے ساتھ لڑکیاں گپیں نہیں ماریں گی، اُس بدمعاش گروپ کے ساتھ ہوں گے جو ان پر اپنا اخلاقی نظام نافذ کرنے کا ٹھیکہ لے لیں گے۔, جرائم ہمیشہ انسانی محرومیوں سے جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے لوگ وائٹ کالر کرائمز کرتے ہیں وہ ریپ، ڈاکے اور راہزنی جیسے جرائم میں کم ہی ملوث پائے جائیں گے کیونکہ وہ زندگی کی سب عیاشیاں افورڈکرسکتے ہیں۔ جو طبقات افورڈنہیں کرسکتے وہ موقع ملنے پر سب کچھ چھین لینے پر یقین رکھتے ہیں اور وہ اس کا جواز بھی تلاش کرلیتے ہیں۔ لہٰذا عابد ملہی جیسے بے رحم لوگ جو بہاولنگر کے کسی گائوں سے مزدوری کرنے لاہور آئے تھے، موٹر وے پر اچانک رات کو موقع ہاتھ آنے پر کسی عورت پر رحم کرنے پر یقین نہیں رکھتے، چاہے ان کا مظلوم شکار رات کی تاریکی میں تین چھوٹے بچوں کی چیختی چلاتی ترلے منتیں کرتی، روتی پیٹتی بے بس ماں ہی کیوں نہ ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے راجستھان کے گائوں سے دہلی مزدوری کیلئے آئے چھ افراد کو شہر کی سڑکوں پر چلتی بس میں رات گئے چیختی چلاتی لڑکی پر اس لیے رحم نہیں آیا کہ وہ بوائے فرینڈ کے ساتھ کیوں بیٹھی تھی، جس سے بھارت بدنام ہورہا تھا اور انہیں اس کا پچھتاوا بھی نہیں تھا۔. Fatima نومبر 1, 2013 0. Rauf Klasra (Urdu: رؤف کلاسرا‎) is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. [2], Rauf Klasra belongs to a subtribe Jatt Southern Punjab in Layyah District of Punjab Pakistan family. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines. عمرو عیار کی زنبیل جیسی پاکستانی جمہوریت !

[6] Klasra has won the APNS best reporter of the year award multiple times. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines. He has done graduation in English Literature.[3]. Find here Urdu Columns of Rauf Klasra published in Dunya News and Akhbar e Jehan. اوئے ڈھولا لمے نہ ونج وے‘ لما دور دا پندھ اے…!


Glock 10 Round Magazine Disassembly, Undertale Song Lyrics Stronger Than You, Arctic Air Ar23ez, 1969 Swan 36, Online Panorama Maker, How Long Does Acrylic Paint Take To Dry On Metal, Celpip Books Pdf, Kierra Sheard Booking, Pokemon Master Apk Mod, Dragon Ball Af, How To Assemble Eliminator Bird Feeder, Gta 5 Female Character Single Player Mod, 1998 Rm250 Graphics, Gulaal Serial Wikipedia, Valrhona Cocoa Powder Substitute, 2006 Honda Pilot Warning Lights, Uwe Welcome Login, Jimmy Perez Name Origin, Quran Verses About Having A Baby, Wholesale Soaps And Bath Products, 12 Week Ultrasound Boy, Convert Youtube To Music Box, Shawn Pilot Birthday, 5e Ways To Fly, Dimr8c10 Spark Plug, Quotes About Being An Exceptional Person, Kelela Red Scare, Highest Fixed Deposit Interest Rates In Nepal 2019, Dbd Mobile Name Change, Aymeric Laporte Wife, Bomber Crew Reddit, Craigslist Port Charlotte Fl Jobs, Minecraft Loud Roblox Id, Don Williams Wife Pics, Attack Of The Radioactive Thing Map, Eva Allan Movies, Verbalase Beatbox Justin Timberlake, Home Chords Bts, Toyota Hilux Tipper Conversion Kit, Residence Inn Morro Bay, Selena Gomez Vocal Range, Hallelujah Acoustic Guitar Fingerstyle, Put The Chops On Meaning, Thomas Bryant Net Worth, Jacksonville Giants Salary, Symbol Scanner Reset, How To Replace Forward Slash In Java, Camp Lazlo Season 2, Oak Lawn Police Blotter 2019, Fendt Caravan 2020 Uk, Kasey Kahl Today, Earl Of Oxford Case, Does Medicaid Cover Invisalign, Ubc Science Reddit, Www Wizards Com Magic 2015 Xbox, Why Do I Imagine Sad Scenarios, Mohair Vs Velvet, Roblox's Myths Discord, Strange Pilgrims Prologue, Crpa Coupon Code, How To Transfer A Sole Proprietorship To A Family Member, Woodpecker Finch Diet, Catherine House Wikipedia, Flowmaster Flowfx Silverado, Rocky Graziano Record, Kid And Play Death, Minecraft Tutorial World Seed 2020, Enlight Videoleap Mod Apk, Hysterical Strength Side Effects, Dove Nest Box Dimensions, Cim Briefing Paper Template, Aldi Rye Bread, Prey Movie 2007, Folk Nation Rappers, Testify Mock Assert Called, L S Lowry Quotes, Jackpot Prediction Today, The First 48 Missing Amber, Computer Architecture A Quantitative Approach Appendix C Solutions Pdf, Davy Graham She Moved Through The Fair Tab,